Tuesday, 28 August 2018

PTI... A Dark Future of Pakistan

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے بارے میں ان کے حلقے کی عمومی رائے یہ ہے کہ وہ بہت ملنسار، خوشگفتار اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ لیکن وزارت ملنے کے کچھ ہی عرصے میں سوشل اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر نظر آنے والی ان کی حرکات یہ بتا رہی ہیں کہ وہ آج بھی ن لیگ دور میں رہ رہے ہیں۔ یا وہ ق لیگ کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ کہیں سے بھی وہ 2018 کی پارلیمنٹ کے رکن یا عمران خان کی کابینہ کے وزیر نہیں لگتے۔ ریلوے کے چیف کمرشل آفیسر کے ساتھ تلخ کلامی اور اس کے بعد کی تمام صورتحال سامنے ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے ن لیگ کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب اگر تحریک انصاف کو اپنا لوہا منوانا ہے تو اس کو اس کے مقابلے میں زیادہ کارکردگی دکھانا ہو گی۔ اسی لیے پی ٹی آئی اور ان کے اتحادی تیزی سے پیشقدمی کر رہے ہیں۔ لیکن اس پیش قدمی میں وہ ایسے اقدامات کر چکے ہیں کہ جس کو پاکستانی ادارے اور عوام دونوں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ اب وہ حکومت کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ اگر عوام کے ساتھ پچھلی حکومتوں والا سلوک رکھیں گے تو 22 سال کی محنت 22 دن میں ضائع ہو جائے گی۔ پہلے ہی عوام میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ پی ٹی آئی صرف عمران خان کا نام ہے۔ اب اگر خان صاحب کا کوئی وزیر یا اتحادی ایسی حرکت کرے گا تو لامحالہ یہ سوچ ابھرے گی کہ غالبا عمران خان اپنے وزیروں اور اتحادیوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔

Monday, 27 August 2018

PTI... A Dark Future of Pakistan

وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کے سابق شوہر خاور مانیکا کے مبینہ دبائو پر پاک پتن کے ڈی پی او کو غیر مہذب انداز سے عہدے سے ہٹانا نہ صرف پی ٹی آئی کے منشور اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے پہلی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس میں سنائے گئے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ’’غیر پیشہ ورانہ اور بدتمیز‘‘ شخص قرار دیتے ہوئے ایک سینئر افسر کی جانب سے نئے وزیر ریلوے شیخ رشید کے تحت کام سے انکار کے ایک دن بعد، ڈی پی او پاک پتن کے حوالے سے میڈیا میں آنے والے واقعے نے عمران خان کی حکومت کے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کرنے والی ملک کی سویلین بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آج کی خبر پڑھ کر محسوس ہوا کہ پی ٹی آئی کے بارے میں میرا گزشتہ تجزیہ کس حد تک درست تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت ایک ناتجربہ کار اور کمزور حکومت ہے۔ غالباً ن لیگ کے موجودہ صدر شہباز شریف کے الفاظ تھے کہ ملک کو 30 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ خاور مانیکا کے حوالے سے میڈیا کی زینت بننے والی خبر سے یہ واضح ہو گیا کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے پاس فی الحال کوئی روڈ میپ یا لائحہ عمل نہیں ہے جسے وہ ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے پارٹی پالیسی کے طور پر پیش کر سکیں۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر نعرہ بازی کرنے سے کوئی شخص سیاست دان نہیں بن جاتا۔ حکومت کے ابتدائی 100 دن کی کارکردگی ہی یہ فیصلہ کر دے گی کہ پی ٹی آئی جو اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، کس حد تک اپنے منشور اور وعدوں پر عمل کر سکتی ہے۔

PTI... A Dark Future of Pakistan.

پی ٹی آئی۔۔۔ پرانے کاریگروں کا نیا پاکستان

پی ٹی آئی کی حکومت مکمل طور پر قائم ہو چکی ہے۔ ملک کے دو صوبوں اور وفاق میں مکمل حکومت کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ ایک صوبے کی نصف حصے دار بن چکی ہے۔ عمران خان اپنے وژن کے مطابق پورے زور و شور سے کام کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ پہلے 100 دن کا ایجنڈا پیش کیا جا چکا ہے۔ تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کیا خان صاحب اپنے اعلان اور دعووں پر عمل کریں گے۔
دوسری طرف اپوزیشن تین بڑے حصوں میں تقسیم ہے۔ پی پی پی پی، ن لیگ اور ایم ایم اے۔ ساتھ میں ایک کمزور مگر مستند ساتھ اے این پی کی ایک سیٹ کا بھی ہے۔ بظاہر مضبوط اور پائیدار پی ٹی آئی کی حکومت کے مقابلے میں ایک کمزور اور منقسم اپوزیشن۔
قطع نظر اس سے کہ پی ٹی آئی کو جیت میں کس کا کردار کتنا تھا۔ یا یہ کہیں کہ پی ٹی آئی کو جتوانے میں عناصر شامل تھے۔ اب موجودہ حکومت کو یہ موقع بہرحال ملنا چاہیے کہ وہ اپنی مدت پوری کرے۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم دیا۔ ابتدا میں ایم ایم اے کے مولانا فضل الرحمن صاحب کا زور اس بات پر تھا کہ اسمبلی کا بائکاٹ کیا جائے۔ مگر ان کے اپنے اتحادی ہی اس بات سے متفق نہ تھے۔ جبکہ ن لیگ اور پی پی پی نے واضح طور پر اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اسی بنیاد پر میڈیا میں نظر آنے والے واضح اختلافات کے باوجود اپوزیشن ایک مضبوط وجود رکھتی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایک مضبوط پوزیشن رکھنے کے باوجود کوئی بھی قدم اٹھانے میں بیسیوں بار سوچتی ہے۔
عمران خان کا وژن میڈیا پر جو بھی پیش کیا جائے، یہ ایک حقیقت ہے جسے پی ٹی آئی کو تسلیم کرنا پڑے گا، کہ عمران خان کے اپنی ذات کو چھوڑ کر باقی تمام سرکردہ لوگ ماضی میں دیگر پارٹیوں کا حصہ رہے اور وقتی مفاد کے لیے پارٹی بدلتے رہے ہیں۔ موجودہ میڈیا وزیر فواد چوہدری، جنرل مشرف کے نعرے لگاتے رہے۔ جنوبی پنجاب محاز کے سرکردہ لوگ دس سال تک ن لیگ کے ساتھ رہے۔ جہانگیر ترین نااہلی کے باوجود آج بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ نے انہیں صادق اور امین قرار نہیں دیا۔ ایسے شخص کو پنجاب کی حکومت سازی میں متحرک کردار پی ٹی آئی کی ساکھ کو داغدار کرتا ہے۔ علیم خان دولت کے بل بوتے پر پنجاب کے آزاد ارکان کو پی ٹی آئی میں شامل کرتے ہیں۔ جبکہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد پوری ہونے کے باوجود ہفتہ بھر ایسے رکن کو تلاش کرنا پڑتا ہے جسے وزیر اعلیٰ کے کرسی پر بٹھایا جا سکے تو اس کے خلاف نیب کے کیسزز نہ ہو۔ ایک ہفتہ کی طویل تلاش کے بعد جو شخص چنا جاتا ہے، اس کا دعوی تو یہ ہے کہ وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر دو کروڑ سے زائد کے اثاثوں کا مالک نکلتا ہے۔ غرض ن لیگ اور پی پی پی کی طرح پی ٹی آئی میں بھی وہی ٹولہ سرگرم ہے جو طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر کسی بھی حکومت کا حصہ بن کر عوام کی خصوصی خدمت کرتا ہے۔
نیا پاکستان بنانے والوں کو نئے کاریگر دستیاب نہ ہو سکے تو انہوں نے پرانے اوزاروں سے ہی کام چلا لیا۔ شاباش عمران خان۔