پی ٹی آئی۔۔۔ پرانے کاریگروں کا نیا پاکستان
پی ٹی آئی کی حکومت مکمل طور پر قائم ہو چکی ہے۔ ملک کے دو صوبوں اور وفاق میں مکمل حکومت کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ ایک صوبے کی نصف حصے دار بن چکی ہے۔ عمران خان اپنے وژن کے مطابق پورے زور و شور سے کام کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ پہلے 100 دن کا ایجنڈا پیش کیا جا چکا ہے۔ تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کیا خان صاحب اپنے اعلان اور دعووں پر عمل کریں گے۔
دوسری طرف اپوزیشن تین بڑے حصوں میں تقسیم ہے۔ پی پی پی پی، ن لیگ اور ایم ایم اے۔ ساتھ میں ایک کمزور مگر مستند ساتھ اے این پی کی ایک سیٹ کا بھی ہے۔ بظاہر مضبوط اور پائیدار پی ٹی آئی کی حکومت کے مقابلے میں ایک کمزور اور منقسم اپوزیشن۔
قطع نظر اس سے کہ پی ٹی آئی کو جیت میں کس کا کردار کتنا تھا۔ یا یہ کہیں کہ پی ٹی آئی کو جتوانے میں عناصر شامل تھے۔ اب موجودہ حکومت کو یہ موقع بہرحال ملنا چاہیے کہ وہ اپنی مدت پوری کرے۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم دیا۔ ابتدا میں ایم ایم اے کے مولانا فضل الرحمن صاحب کا زور اس بات پر تھا کہ اسمبلی کا بائکاٹ کیا جائے۔ مگر ان کے اپنے اتحادی ہی اس بات سے متفق نہ تھے۔ جبکہ ن لیگ اور پی پی پی نے واضح طور پر اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اسی بنیاد پر میڈیا میں نظر آنے والے واضح اختلافات کے باوجود اپوزیشن ایک مضبوط وجود رکھتی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایک مضبوط پوزیشن رکھنے کے باوجود کوئی بھی قدم اٹھانے میں بیسیوں بار سوچتی ہے۔
عمران خان کا وژن میڈیا پر جو بھی پیش کیا جائے، یہ ایک حقیقت ہے جسے پی ٹی آئی کو تسلیم کرنا پڑے گا، کہ عمران خان کے اپنی ذات کو چھوڑ کر باقی تمام سرکردہ لوگ ماضی میں دیگر پارٹیوں کا حصہ رہے اور وقتی مفاد کے لیے پارٹی بدلتے رہے ہیں۔ موجودہ میڈیا وزیر فواد چوہدری، جنرل مشرف کے نعرے لگاتے رہے۔ جنوبی پنجاب محاز کے سرکردہ لوگ دس سال تک ن لیگ کے ساتھ رہے۔ جہانگیر ترین نااہلی کے باوجود آج بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ نے انہیں صادق اور امین قرار نہیں دیا۔ ایسے شخص کو پنجاب کی حکومت سازی میں متحرک کردار پی ٹی آئی کی ساکھ کو داغدار کرتا ہے۔ علیم خان دولت کے بل بوتے پر پنجاب کے آزاد ارکان کو پی ٹی آئی میں شامل کرتے ہیں۔ جبکہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد پوری ہونے کے باوجود ہفتہ بھر ایسے رکن کو تلاش کرنا پڑتا ہے جسے وزیر اعلیٰ کے کرسی پر بٹھایا جا سکے تو اس کے خلاف نیب کے کیسزز نہ ہو۔ ایک ہفتہ کی طویل تلاش کے بعد جو شخص چنا جاتا ہے، اس کا دعوی تو یہ ہے کہ وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر دو کروڑ سے زائد کے اثاثوں کا مالک نکلتا ہے۔ غرض ن لیگ اور پی پی پی کی طرح پی ٹی آئی میں بھی وہی ٹولہ سرگرم ہے جو طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر کسی بھی حکومت کا حصہ بن کر عوام کی خصوصی خدمت کرتا ہے۔
نیا پاکستان بنانے والوں کو نئے کاریگر دستیاب نہ ہو سکے تو انہوں نے پرانے اوزاروں سے ہی کام چلا لیا۔ شاباش عمران خان۔