وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کے سابق شوہر خاور مانیکا کے مبینہ دبائو پر پاک پتن کے ڈی پی او کو غیر مہذب انداز سے عہدے سے ہٹانا نہ صرف پی ٹی آئی کے منشور اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے پہلی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس میں سنائے گئے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ’’غیر پیشہ ورانہ اور بدتمیز‘‘ شخص قرار دیتے ہوئے ایک سینئر افسر کی جانب سے نئے وزیر ریلوے شیخ رشید کے تحت کام سے انکار کے ایک دن بعد، ڈی پی او پاک پتن کے حوالے سے میڈیا میں آنے والے واقعے نے عمران خان کی حکومت کے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کرنے والی ملک کی سویلین بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آج کی خبر پڑھ کر محسوس ہوا کہ پی ٹی آئی کے بارے میں میرا گزشتہ تجزیہ کس حد تک درست تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت ایک ناتجربہ کار اور کمزور حکومت ہے۔ غالباً ن لیگ کے موجودہ صدر شہباز شریف کے الفاظ تھے کہ ملک کو 30 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ خاور مانیکا کے حوالے سے میڈیا کی زینت بننے والی خبر سے یہ واضح ہو گیا کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے پاس فی الحال کوئی روڈ میپ یا لائحہ عمل نہیں ہے جسے وہ ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے پارٹی پالیسی کے طور پر پیش کر سکیں۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر نعرہ بازی کرنے سے کوئی شخص سیاست دان نہیں بن جاتا۔ حکومت کے ابتدائی 100 دن کی کارکردگی ہی یہ فیصلہ کر دے گی کہ پی ٹی آئی جو اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، کس حد تک اپنے منشور اور وعدوں پر عمل کر سکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment