Monday, 27 August 2018

PTI... A Dark Future of Pakistan

وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کے سابق شوہر خاور مانیکا کے مبینہ دبائو پر پاک پتن کے ڈی پی او کو غیر مہذب انداز سے عہدے سے ہٹانا نہ صرف پی ٹی آئی کے منشور اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے پہلی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس میں سنائے گئے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ’’غیر پیشہ ورانہ اور بدتمیز‘‘ شخص قرار دیتے ہوئے ایک سینئر افسر کی جانب سے نئے وزیر ریلوے شیخ رشید کے تحت کام سے انکار کے ایک دن بعد، ڈی پی او پاک پتن کے حوالے سے میڈیا میں آنے والے واقعے نے عمران خان کی حکومت کے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کرنے والی ملک کی سویلین بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آج کی خبر پڑھ کر محسوس ہوا کہ پی ٹی آئی کے بارے میں میرا گزشتہ تجزیہ کس حد تک درست تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت ایک ناتجربہ کار اور کمزور حکومت ہے۔ غالباً ن لیگ کے موجودہ صدر شہباز شریف کے الفاظ تھے کہ ملک کو 30 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ خاور مانیکا کے حوالے سے میڈیا کی زینت بننے والی خبر سے یہ واضح ہو گیا کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے پاس فی الحال کوئی روڈ میپ یا لائحہ عمل نہیں ہے جسے وہ ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے پارٹی پالیسی کے طور پر پیش کر سکیں۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر نعرہ بازی کرنے سے کوئی شخص سیاست دان نہیں بن جاتا۔ حکومت کے ابتدائی 100 دن کی کارکردگی ہی یہ فیصلہ کر دے گی کہ پی ٹی آئی جو اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، کس حد تک اپنے منشور اور وعدوں پر عمل کر سکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment